Top

بچوں کی زندگی میں پریکٹیکل پڑھائی کی اہمیت

بچوں کی زندگی میں پریکٹیکل پڑھائی کی اہمیت

 

 

تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں ہے یا پھر کوئی قابلیت کا سرٹیفیکیٹ جو کہ دوسروں کو دکھا کر یہ ثابت کیا جائے کہ کتنے تعلیم یافتہ ہیں لیکن تعلیم روٌیوں،اعمال،زبان اور حقیقی زندگی کے رکھ رکھاؤ سے نظر آتی ہے۔
الیکسینڈرا وجوکو، کہتی ہے۔ثقافتی،معاشرتی،معاشی تبدیلی تعلیم کے ساتھ ہی ممکن ہے۔جب ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں تو چاہے اس میں سکول ،کالج ہو یا یونیورسٹی۔ان سب کا تعلق تعلیم سے ہی ہے۔تعلیم کے ساتھ ہی پریکٹیکل ورک بے حد ضروری ہے۔یعنی بچے نہ صرف پڑھیں بلکہ وہ پریکٹیکل کے ساتھ چیزوں کا تجربہ کریں۔UKمیں عمومی طور پر۱۳ سے ۱۴ سال کے بچے اپنا ذیادہ تر وقت پریکٹیکل سائینس کو سیکھنے میں صرف کرتے ہیں کیونکہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے جیسے کیمسٹری کے پریکٹیکل میں طالبعلم خاص طور پر خطروں سے بچ کر محفوظ طریقوں سے کام کرنا سیکھتے ہیں جو ان کی عملی زندگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ان کی ذاتی صلاحیتیں بھی اُبھرتی ہیں۔
پریکٹیکل کرنے والے طالبعلم کی صلاحیتوں کی ڈویلپمینٹ ہوتی ہے۔جیسے منصوبہ سازی،مشاہدہ،آلات کا استعمال اور تشخیص۔یہ سب عملی تجربوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔جیسے اپنے تجربوں کو پرکھنا،اُن کا تجزیہ کرنا،نظریات کو پرکھنا،مسائل کا حل،حکمتِ عملی سے مشکلات کا حل تلاش کرنا،ٹیم ورک کے ساتھ تجربہ کرنے کی صلاحیت اور ذمے داری قبول کرنا اور طالبعلموں کا خود سے کچھ نیا سیکھنا،یہ سب عملی تجربوں کی بدولت ممکن ہے۔عملی سائنس ان تمام پہلوؤ ں کا احاطہ کرتی ہے۔اس طرح طالبعلم خود سے کام کرتے ہیں اور اپنی ذہنی سطح کے مطابق کچھ نیا سیکھتے ہیں۔عملی کام کا بڑا مقصد نئے نئے سولات کے بارے میں سوچنا اور طالبعلموں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔جیسے گروپ کے ساتھ کام کرنا،اکیلے کام کرنا،مواد کو جوڑنا،تمام حسیات کا مشاہدہ کرنا،غیر رسمی انداز میں ساتھی اور اساتذہ کے ساتھ بات چیت کرنا۔
جو بچے پڑھائی میں عملی تعلیم حاصل کرتے ہیں اُن میں زندگی کی یہ صلاحتیں اُجاگر ہوتی ہیں جیسے عقل،حوصلہ،تجسس،کوشش،لچک،دوستی،دیکھ بھال،تنظیم،سا لمیت،دیکھ بھال،صبر،تحفظ،مسئلے کا حل،ذمے داری،حسِ مزاح۔ان صلاحیتوں کی وجہ سے طالبعلموں کی آئندہ زندگی ذیادہ بہتر ہو جاتی ہے۔
ایسی مہارتیں جو اکثرسکولوں میں نہیں سکھائی جاتیں جیسے ذاتی فنانس۔

 

 

 

ذاتی فنانس کو سکولوں میں شروع کی عمر میں سکھانا چاہئے۔بچوں کو یہ سمجھانا چاہئے۔کہ قرض لینے میں کیا مشکلات آتی ہیں۔جب آج کل کے بچوں کو تمام تعلیم دی جا رہی ہے تو ذاتی فنانس کی تعلیم بھی ضروری ہے۔اس کے لئے بچوں کو پیسے دے کر ان کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اپنے پیسوں سے چیزیں خریدیں تاکہ ان میں اعتماد بحال ہو اور ان کو پیسوں کی بچت کے بارے میں بھی بتایا جائے۔اس سے چھوٹے بچوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو گی کہ انھیں پیسوں کو کس طرح خرچ کرنا ہے بچے ایسی باتوں میں دلچسپی لیتے ہیں چھوٹے بچوں کو اگر کوئی ذمے داری دی جائے تو وہ اکثر بڑوں سے ذیادہ ذمے
داری سے کام کو انجام دیتے ہیں۔ جب تعلیم کی بات ہوتی ہے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم بھی ہو رہی ہوتی ہے جیسے بچے کو پیسے دئے جائیں کہ ان کو خرچ کرنا ہے لیکن کچھ پیسے اپنے ایسے ساتھی کے لئے بھی بچانے ہیں جس کے پاس کچھ لینے کے لئے پیسے نہیں اس طرح بچوں میں دوسروں کی مدد کا جذبہ بھی پیدا ہو گا۔تعلیم کا فائدہ ہی جب ہے جب اس میں زندگی کی بہترین اقدار دکھائی دیں۔
فلسفہ گو کہ بہت مشکل سمجھا جاتا ہے اور بہت چھوٹے بچوں کو اس کو سمجھنا نا ممکن ہے۔لیکن بچوں کو عقلی بات سمجھانا ذرا مشکل نہیں بشرطیکہ سمجھانے والے کو بات کرنے کا سلیقہ ہو۔ فلسفہ عقل سے وابستہ ہے لیکن اس
کے نام سے ہی لگتا ہے کہ ازحد مشکل ہے۔بچوں کو اس طرح کی تعلیم دی جائے۔کہ انھیں اچھائی اور بُرائی میں فرق کرنا آئے وہ عقل سے سوچیں اور کُھلے دل ودماغ سے چیزوں کو دیکھیں اس تعلیم کا اثر یہ ہو گا کہ بچے اپنی زندگی میں احساس اور اقدار کا خیال رکھیں گے۔ان کو خود سے سوچنا آئے گا۔

 

 

بچے اس معاملے میں خوش قسمت ہیں کہ وہ جو بھی کھائیں،حد سے ذیادہ موٹے نہیں ہوتے۔ان کے جسم کو ذیادہ کیلوریز کی ضرورت رہتی ہے۔لیکن بچوں کو اس بات کی تعلیم دینا ضروری ہے کہ انھیں ایکسرسائز اور خوراک کے بارے میں اچھی اور بہتر معلومات حاصل ہوں۔

جہاں تک ٹیکنالوجی کی بات آئے تو مواصلاتی صلاحتیں زندگی کو کامیاب بناتی ہیں۔بچوں کو اپنے خیالات کو بیان کرنا آنا چاہئے۔پڑھنا ،لکھنا،بات کو خوبصورت انداز میں پیش کرنازندگی کی پرفیکشن کا پیش خیمہ ہے ۔بچوں کے کردار کی نشوونما ان کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ بے حد ضروری ہے۔ان کے اندر اپنی بات کو بیان کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔

 

سٹیفن ڈیوس جو کہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن کنسلٹنٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی اثر کے بغیر بات کر رہے ہیں تو آپ فیل ہیں۔ انفلیونس ہی سب کچھ ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ا ہمیت کی حامل ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں بچے جہاں آؤٹ ڈور ایکٹیوٹیز سے دور ہیں وہاں وہ مٹی سے بھی بہت دور ہو گئے ہیں اور اگر کبھی وہ مٹی میں کھیل بھی رہے ہوں تو والدین ان کو منا کر دیتے ہیں۔جب کہ دیکھا جائے تو جو بچے آج بھی مٹی میں کھیلتے ہیں وہ ایسے بچوں سے ذیادہ چُست ہوتے ہیں جو صرف کمپیوٹر پر کھیلتے ہیں۔مٹی سے کھیلنے والے بچوں کے اندرجو بہترین صلاحتیں پیدا ہوتی ہیں اُن میں ایک صلاحیت بچوں کے ہاتھوں کی صلاحیت کو اُبھارنا ہے۔ایسے بچے چیزوں کو مضبوتی سے پکڑ سکتے ہیں مٹی سے کھیلنے والے بچوں کے مسلز بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

 

 

مٹی سے کھیلنے والے بچوں کا تخیل اور چیزوں کو بنانے کی صلاحیت بہت عمدہ ہوتی ہے۔ان کے دماغ میں نئے نئے منصوبے آتے ہیں۔ان کا دماغ نئی چیزوں کو بنانے پر آمادہ ہوتا ہے۔

کافی دیر تک مٹی سے کھیلنے والے بچے پُرسکون ہوتے ہیں۔وہ مٹی کو بکھیرتے ہیں اور پھر اُس کو سنوارتے ہیں۔اس طرح ان کو چیزیں ترتیب دینے کا فن آتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں تخلیقی کا لفظ صرف فنکاروں سے منسوب ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے۔کیونکہ الگ الگ سوچ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔چاہے وہ آفس ہو،سیاست ہو یا سوشل میڈیا یا بچوں سے متعلق کوئی بات۔جب ایک چھوٹاچ بچہ کچن میں کرسی رکھ کراوپر رکھے بسکٹ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنی بھرپور تخلیقی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے.
مارک رنکو جو کہ یونیورسٹی آف جارجیا میں تخلیقیت اور ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ ہم سب کے اندر تخلیقی صلاحیت موجود ہے ۔ لیکن اس کو استعمال کرنے کا فن جب ہی ممکن ہے جب بچپن سے بچوں کو عملی تعلیم دی جائے۔

 

1.SCORE.Science community Reprisenting Education.
Emma Woodley
2.Stephon Devis, Digital communication consultant, Nuffield Foundation.
3. The benefits of playing with clay, June 12 by Anna Ranson.
4.C.N.N
Why we need to let be creative, by Carolina .A.Miranda.
Tehseen Zahra

3 Comments
  • Abdul Rehman
    April 2, 2018 at 4:14 pm

    جزاک اللہ اللہ تعالی آپ کے علم میں مزید اضافہ کرے، کیونکہ علم کوقلم کے ذریعہ عام کرنا بھی باعث اجروثواب ہے ۔والدین اور اساتذہ کے لیے بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت معنی خیزہ مضمون ہے ،اساتذہ اور والدین اس تحریر کو لازمی اک دفعہ پڑھیں ،مزہ آئے گا،

  • Shabana
    May 11, 2018 at 10:28 am

    jazak Allah. Very informative.

  • Nosheen
    May 13, 2018 at 1:30 am

    Jazak Allah

Post a Comment