Top

Phthalates and diet

Phthalates and diet

Phthalates and diet

Phthalates and diet

پلاسٹک فوڈ کنٹینر میں پایا جاتا ہے۔ جو کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ پلاسٹک کو نرم اور بآسانی توڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ کاسمیٹکس اور کھانے کی اشیاء میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کوٹنگ،پرنٹنگ انکس،گھریلو اشیاء اور روزمرہ کی چیزوں میں اس کا استعمال دکھائی دیتا ہے۔نئی تحقیق کے مطابق اس کا منفی اثر انسانی صحت پر دیکھنے کو ملتا ہے۔حاملہ خواتین اور بچوں پر اس کے اثرات خطرناک حد تک اثر انداز ہوتے ہیں ۔
یہ کیمیکل خواتین میں شوگر،دل کی بیماری ،ہڈیوں کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔اس سے نہ صرف بچوں کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی جنس پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔جیسے ہارمونل تبدیلیاں وقت سے پہلے آ جانا۔

     ۲۰۱۴ 

.میں ۱۲ بلین پاؤنڈ ز گلوبل کیمسٹری انڈسٹری میں اس کیمیکل کو بنانے میں صرف کئے گئ

  خوراک میں وافر مقدارمیں استعمال نہیں کئے جاتے لیکن خوراک بنانے ،اس کی پیکنگ اور تیاری میں ان کا عمل دخل ہوتا ہے۔ phthalates اگرچہ

   .سے شائع کی گئی  Coalition safer food and processing سب سے پہلی رپورٹ

چیز پاؤڈر اور میکرونی میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ phthalates  جس میں بتایا گیاک

کی موجودگی دیکھی گئی۔  phthalates  اس سلسلہ میں ۳۰ پرڈاکٹ  کا جائزہ لیا گیا جن میں  ۲۹  میں

اس رپورٹ کو پرکھنے کے لئے تیس مختلف قسم کے پنیر سے بنی اشیاء کو یونائٹڈ اسٹیٹ سے بیلجئم کی لیبارٹری میں لایا گیا۔جو کہ فلیمش انسٹیٹوٹ    ٹیکنالوجیکل ریسرچ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس ریسرچ میں یہ بتایا گیا کہ جو خمیر سلائس کی شکل میں بنایا جاتا ہے اس میں قدرتی خمیر سے تین گنا ذیادہ تھیلیٹس پائے جاتے ہیں ۔جہاں تک کھانے کی اشیا کی بات ہے وہاں یہ دیکھ کر قدرے حیرانی ہوتی ہے کہ بہت سی صفائی کی اشیاء ایسے زہریلے کیمیکل پر مشتمل ہوتی ہیں جن کے استعمال سے جسمانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عام طور پر استعمال کئے جانے والے زہریلے کیمیکل جہاں صفائی کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں وہاں خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے نہ صرف جلدی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ صحت سے متعلق اور مسائل بھی جنم لیتے ہیں ۔ان میں سے چند ایک کا ذکر کچھ یوں ہے۔ایک عام آدمی کو ان کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل نہیں جس کی وجہ سے صرف خوبصورت پیکنگ دیکھ کر لوگ چیزیں خرید لیتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں ۔

 

Phthalates

یہ موسچرائزنگ لوشن میں استعمال ہوتا ہے اور چھوٹے بچوں کے استعمال کی اشیاء میں بھی اس کو سوچے سمجھے بنا استعمال کیا جاتا ہے۔کیونکہ حقیقت میںیہ کینسر کا باعث بنتا ہے۔

Phthalates (Sodium laurel sulfate)

یہ کیمیکل صابن اور شیمپو میں جھاگ بنانے کے کام آتا ہے۔یہ عام طور پر شیمپو،لیکوڈ صابن ٹوتھ پیسٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے اندر بھی کینسر جیسے موذی مرض کو پھیلانے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بال رنگنے والی مصنوعات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

Phthalates (Tricolson)
یہ عام طور پر اینٹی بیکٹیریل سوپ میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے استعمال سے اعضاء کی توانائی پر منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔یہ دروں افرازی غدود کو نقصان پہنچاتا ہے اور اینٹی بائیو ٹک بیکٹیریا کے لئے بھی نقصان کا باعث بنتا ہے انسان کی قوت مدافعت کو کمزور کرتا ہے۔جس کی بدولت دل کی بیماریاں    ،دهڑکن کی بے ترتیبی،جوڑوں کے درد جیسے موذی مرض وجود میں آتے ہیں ۔کاسمیٹکس کے علاوہ گھریلو اشیاء کی صفائی کے لئے جو کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جیسے کپڑے دھونے کا پاؤڈر۔اس سے بھی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں جیسے قے آنا،ڈائیریا،سانس لینے میں مشکل،گلے کا پھول جانا۔ہونٹوں اور زبان کا متاثر ہونا،سکن کا جل جانا،آنکھوں کی بیماریاںِ معدے میں درد اور بلڈپریشر۔اس کے علاوہ ان کیمیکل کے بے جا استعمال سے دماغ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔یہاں تک کہ جسمانی اعضاء کے ختم ہونے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔گھریلو اشیاء کی صفائی والی چیزیں آپ کو کافی حد تک بیمار کر سکتی ہیں ۔نیشنل پوائزن کنٹرول سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ۴۷ فیصد لوگ معدے کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جن میں پانچ سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں ۔
سینٹرز آف ڈیزیز کنٹرول اینڈپریوینشن کے مطابق روزانہ ۳۰۰ بچے اور نوجوان زہر خورانی سے ہر دن موت کے قریب جا رہے ہیں یہ تو ترقی یافتہ ممالک
کی صورتحال ہے ۔ترقی پذیر ممالک میں تو مسائل اور گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان قدرتی چیزوں کے استعمال سے دور ہو چلا ہے کھانے سے لے کر صفائی کرنے والی اشیاء ۔یہاں تک کہ خوبصورتی کو بڑھاوا دینے کے لئے بھی وہ کیمیکل کا محتاج ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے صرف مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔
میک اپ اور کھانے کی اشیاء کو سود مند بنانے کے لئے اگر قدرتی اور خالص چیزوں کی طرف رجوع کیا جائے تو کافی حد تک بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کم از کم گھریلو اشیاء میں روز مرہ صفائی کے لئے گھر میں موجود اشیاء کو کام میں لایا جائے جیسے،
بیکنگ  سوڈا ،کمرے ،کچن ،باتھ روم میں پڑ جانے والے داغ دھبوں کو دور کرنے کے لئے بہترین ہے۔ حتی کی اس سے کچن میں موجود اشیا جیسے اوون ،فرج وغیرہ کو بھی صاف کیا جا سکتا ہے۔سوڈے میں موجود نمک چیزوں کو صاف کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اس کو دانتوں کو صاف        کرنےکے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
لیموں کا رس۔
لیموں کے رس کو اگر سرکے اور زیتوں کے تیل میں ملایا جائے تو بہترین صفائی کا سولیوشن بنتا ہے۔
زیتون کا تیل۔
زیتون کے تیل اور لیموں سے فرنیچر کو بہت عمدگی سے صاف کیا جا سکتا ہے۔
سرکہ۔
سفید سرکے سے داغ دھبے دور کئے جاتے ہیںَ سفید سرکے کو سپرے بوتل میں بھر کر کھڑکیاں ،دروازے اور فرش صاف کئے جاتے ہیں ۔
صفائی کے ساتھ ساتھ جلد کو تروتازہ رکھنے کے لئے اور جسم کو اندرونی طور پر آسودہ رکھنے کے لئے قدرت نے ہر چیز میں شِفا رکھی ہے بس ان چیزوں کو برتنے کا سلیقہ اگر آجائے تو انسانوں کی بہت سی بیماریاں خود بخود دور ہوتی چلی جائیں ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating / 5. Vote count:

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

2 Comments
  • Hifza Ijaz
    January 31, 2019 at 12:04 pm

    So informative…thanks for discussing such an issue in detail.InshaAllah will be careful using such products from now onwards.JazakAllah

  • Hifza Ijaz
    January 31, 2019 at 12:12 pm

    Very informative article.Thanks for discussing such an issue in detail.It’s a must read for all.JazakAllah

Post a Comment