Top

(Nomophobia) نامکمل احساس

(Nomophobia) نامکمل احساس

ایک تحقیق کے مطابق ہر سو گھنٹے میں لوگ اپنا وقت فون پر باتیں کرتے گزارتے ہیں۔اس طرح کافی حد تک وہ دماغی کینسر سے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔سمارٹ فون کی لت بعض اوقات بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

 


ہم میں سے بہت سے لوگ صرف فون کو دیکھتے اور اُس پر باتیں کرتے وقت گزار دیتے ہیں اور دلچسپ بات ہے کہ ایک سروے کے مطابق ۹۱ فیصد لوگ باتھ روم میں بھی فون کے استعمال سے بعض نہیں آتے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس میں خواتین حضرات سے بازی لے گئی ہیں۔خواتین ۷۶فیصد باتھ روم میں فون کا استعمال کرتی ہیں جبکہ حضرات ۷۴ فیصد۔لوگوں کا رجحان سمارٹ فون کی طرف اس قدر بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غیر ارادی طور پر بار بار فون چیک کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے اندر یہ عادت وہم کی صورت اختیار کر لیتی ہے ان کو ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا فون آرہا ہو۔تقریبا ۸۰ فیصد لوگوں کو اس بات کا دھوکہ ہوتا ہے جیسے اُن کا فون بج رہا ہے۔جبکہ ۳۰ فیصد لوگوں کو موبائل پاس نہ ہونے کی صورت میں اپنے موبائل میں میسیج اور نو ٹیفکیشن کی آواز سنائی دیتی ہے۔۸۰.۶فیصد لوگ اپنا فون ساتھ رکھ کر سوتے ہیں اور سونے سے پہلے ایک بار ضرور اس کو دیکھتے ہیں اور جاگتے ہی اس پر نظر ڈالتے ہیں۔اس کا منفی نتیجہ ہے نکلتا ہے کہ ایسے لوگ حقیقی زندگی کے تجربوں سے کافی دور چلے جاتے ہیں وہ دنیا کو صرف اپنے فون کی حد تک ہی دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اس کا سب سے بڑا نقصان بچوں میں دکھائی دے رہا ہے۔والدین بچوں کو بعض اوقات معیاری وقت نہیں دیتے جن میں بچوں میں فرسٹریشن بڑھنا شروع ہو جاتی ہے اور غیر ارادی طور پر نظر انداز ہو کر ان کا مزاج موڈی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

 

 

ایک عام آدمی اپنا فون دن میں تقریبا ۱۱۰ مرتبہ اور بہت سے لوگ ۹۰۰ مرتبہ اپنا فون چیک کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال صحت کے لئے نقصان د ہ ہوتا جا رہا ہے۔کیونکہ ٹیکنالوجی اسی صورت میں ٖ فائدہ مند ہے جب تک اس کو حد میں رہ کر استعمالکیا جائے۔

 

بہت سے لوگ تو یہاں تک سوچتے ہیں کہ فون ان کو نارمل رہنے اور پریشانی سے دور رکھنے میں مدد کرتا ہے۔جبکہ ایسا کچھ نہیں بعض اوقات یہ ایک معذوری بن جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فرد کی بجائے ٹیکنالوجی سے جڑے رہنے والے لوگ بعض اوقات حقیقی زندگی میں پریشانی اور اختلاف کا تجربہ کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فون پاس نہ ہونے کی صورت میں لوگوں کے اندر جو علامات دیکھی جا سکتی ہیں وہ ہیں ذہنی دباؤ،بے خوابی اور پریشانی۔ایسی کیفیت جسم اور دماغُ پر اثر انداز ہو کرایک ہارمون بناتی ہے جسے کارڈیو ٹوکسک کہا جاتا ہے۔

 

یہ ذہنی دباؤ پیدا کرنے والا ہارمون دماغی صحت پر اس برے طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے کہ آپس کے تعلقات کو خراب کر دیتا ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات اس میں مبتلا لوگ اپنا گھر اور کئی بار جاب چھوڑ دیتے ہیں۔
نئی تحقیق کے مطابق موبائل فون کا حد سے ذیادہ استعمال گلیومہ کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ ایک بڑھاؤ ہے جس میں ثانوی طور پر کچھ جمع نہیں ہوتا، دماغ کے ناسور کی ایک شکل ہے۔یہ یقینی طور پر ایک انتباہ ہے جو اپنے موبائل فون کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ”
ڈاکٹر ایکس کہتے ہیں:
“موبائل فون کی لت حقیقی اور بدتر ہوتی جا رہی ہے”یوں نومو فوبیاایک غیر عقلی خوف ہے جو کہ فون سے متعلق ہے۔

جیسے سگنلز کی غیر موجودگی یا بیٹری کا ختم ہو جانا۔حال ہی میں ہونے والے  سروے میں 66ٖٖفیصد لوگ اس میں مبتلا ہیں۔
مائیکل گا ر گریک جو کہ میلبورن میں نوجوانوں کے ماہر نفسیات ہیں ۔ان کا کہنا ہے ،نومو فوبیا پوری دنیا میں سب سے بڑا خوف بنتا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو گھبراہٹ کے دورے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں اگر ان کا موبائل ان کے پاس نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق کچھ لوگ موبائل کے بارے میں اتنے فکرمند ہوتے ہیں کہ موبائل گم ہونے کی صورت میں اس کی تلاش کی تمام تر کوششیں کرتے ہیں۔
سروے کے مطابق۱۸سے۲۴ سال کے لوگ نوموفوبیا میں مبتلا ہیں۔اس کے بعد۲۵سے ۳۴ تک کے ۱۱ فیصد لوگ اس پریشانی کا شکار ہیں۔
گارگریگ کا کہنا ہے:
نومو فوبیا کی وجہ سے اداس ہونے ،اکیلے پن اورغیرمحفوظ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ایسے لوگ جن کو یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے وہ تنہائی برداشت نہیں کر سکتے۔اُن کا کہنا ہے کہ میرے بہت سے مریض رات سونے سے پہلے بیڈ پر اپنا موبائل ساتھ رکھ کر سوتے ہیں۔جیسے پرانے وقتوں میں بھالو کے ساتھ سویا جاتا تھا۔یہاں تک کہ جو بچے خود سے اپنے لئے تفریح فراہم نہیں کر سکتے فون ان کا ڈیجیٹل سیکیورٹی بلیینکٹ بن گیا ہے۔”
وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں جدت آتی جا رہی ہے سائنس روز بروز نئی ایجادات میں مگن ہے۔اب موبائل کو ہی لے لیں۔یہ سب جانتے ہیں کہ موبائل میں موجود سم میں تمام ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔پرانے موبائل میں صرف ایک سم ہوتی تھی ۔

 

اب نئے موبائل میں تین سم بھی ہو تی ہیں جس کی وجہ سے اگر ایک سم خراب بھی ہو جائے تو ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ موبائل جینیٹک ڈی این اے کی قسم کا ہوتا ہے جس میں موبائل کی تمام معلومات ہوتی ہیں۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ فون کے بغیر نامکمل ہونے کا احساس بین الاقوامی شکل اختیا ر کر گیا ہے۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر دن میں تین گھنٹے ایک انسان فون کا استعمال لگاتار کرے تو یہ بہت بڑا چانس ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہو جائے۔
ایرک یو ہے چین جو کہ یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں سائیکاٹرسٹ ہیں،کہتے ہیں۔”خوف لت کا حصہ ہے”
کا رگیگ کے مطابق ان کے مریض موبائل کو پریشانی سے نمٹنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔

 

آدھے سے ذیادہ دنیا موبائل کا استعمال کر رہی ہے۔پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں موبائل کا استعمال شدت اختیار کر گیا ہے۔اسی طرح انڈیا میں ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیانے یہ رپورٹ دی ہے کہ نومبر میں884.37ملین موبائل کنکشن ہیں۔
جبکہ چائنہ میں963.68ملین۔انڈین جرنل میں بتایا گیا ہے کہ سروے کے مطابق 200میڈیکل میڈیکل سٹوڈنٹ اور
سکالر پر جب تحقیق کی گئی ان میں سے ہر پانچ لوگوں میں نومو فوبیا نظر آیا۔انڈیا میں یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سوفٹ پیڈیاڈاٹ کام کی ریسرچ کے مطابق موبائل کی تابکاری خون میں موجود سرخ ذرات کو کم کرتی ہے جس سے دل اور گردوں کی بیماری میں اضافہ ہوتا ہے۔
عام طور پر کسی چیز کی لت منشیات کی لت سے منسلک ہے۔لیکن سمارٹ فون کی لت نئی ہے اور اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنی منشیات۔پروفیسر جیمز رابرٹ کا کہنا ہے۔کسی بھی چیز کی لت لگ جانا ذیادہ مشکل کام نہیں۔فون کی لت لگ جانے سے 75فیصد لوگ ذہنی ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں14ٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖفیصد ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر نا خوش ہوتے ہیں اور سات فیصد لوگ خود کو بیمار خیال کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ موبائل ٹیکنالوجی سے انکار ممکن نہیں۔لیکن اس کے بے دریغ استعمال انسانی جان کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
البرٹ آئن سٹائن کہتے ہیں۔
“انسانی روح کو ٹیکنالوجی پر غالب ہونا چاہئیے”

 

Refrences.
1.Dr Axe Nomophobia
2.The facts Behind
“The biggest phobia in the world”
3.East Butterfly Science 4
4.Indian Journal of community.
5.The University of Hong Kong.
6.Telecom Reglatory Authority.
7.Soft pedia.com.
8.James Robert Head of Baylon University.Research team.

1 Comment
  • rayed
    December 15, 2017 at 3:08 pm

    excellent info

Post a Comment