Top

تازہ ترین خبر

Breaking News

تازہ ترین خبر

 

تازہ ترین خبر ا سپیشل رپورٹ کا حصہ ہوتی ہے اور یہ اُس وقت دلچسپ ہو جاتی ہے۔جب نیوز کاسٹر یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے پاس ابھی مکمل تفصیلات نہیں ہیں۔ہم جلد ہی آپ کو تمام معاملے سے آگاہ کریں گے۔یہ بھی ایک ٹرینڈبن گیا ہے کہ عام خبر کو کس طرح اہم بنا کر پیش کیا جائے اور میڈیا یہ کام بہت ذمے داری سے سرانجام دے رہا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ یہ سب صرف پاکستان میں ہے ہر جگہ میڈیا کا ایک ہی کردار ہے کہ خبر کو اتنا چٹ پٹا بنا دو کہ لوگوں کا دل ہی نہ کرے ٹی۔وی کے آگے سے ہٹنے کا۔خبروں کو بڑوں کا کارٹون کہا جاتا ہے اور کسی حد تک اس میں فوٹو میموری کی مدد سے کوئی چیز ازبر کروائی جاتی ہے بالکل یہی کام میڈیا انجام دے رہا ہے کہ بریکنگ نیوز کو اس حد تک دکھایا جاتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن پر نقش ہو جاتی ہے۔پھر ساتھ ساتھ بیک گراؤنڈ میوزک اور نیوز کاسٹر کی آواز کا اُتار چڑھاؤ رہی سہی کسر پوری کر دیتا ہے بالکل ایسے جیسے بچے ڈراؤنے کارٹون دیکھتے ہوئے بس منہ کھول کر ٹی۔وی دیکھ رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات بڑوں کے چہرے کے اتار چڑھاؤ میں بچوں کا عکس دیکھا جا سکتا ہے اور یہ ذیادہ تر تازہ ترین خبر کی مرہونِ منت ہے۔
تازہ ترین خبریں وہ ہوتی ہیں جو اچانک منظرِعام پر آجائیں۔یعنی غیر متوقع جیسے حادثات،آگ، طوفان،بلڈنگ یا جہاز کا گِر جانا اور ایسی بہت سی خبریں۔میڈیا کی دُکان میں موجود ہر چیز تازہ ترین خبر بن کر سامنے آتی ہے اور یہ مقابلہ اُس وقت ذیادہ سخت ہو جاتا ہے جب کسی سنسنی خیز کہانی کو سب سے پہلے منظرِ عام پر لانے کی دوڑمیں شامل کیا جائے۔لیکن تازہ ترین خبر کا درست ہونا ازحد ضروری ہو۔ایسا نہ ہو جیسا اس تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔

 

 

عمومی طور پر بریکنگ نیوز کی کہانیاں بہت ذیادہ افراتفری اور ابہام پیدا کرتی ہیں اور میڈیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سب سے پہلے لوگوں تک خبر پہچانے میں دیر نہیں کرتے اور بعد میں بعض اوقات تردید بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل ایج میں خبریں بہت تیزی سے سوشل میڈیا اور ٹوئٹر پر پھیلتی ہیں اور لوگ بغیر تحقیق کے ان خبروں کو آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں یوں منٹوں میں ملین لوگوں تک خبر پھیل جاتی ہے۔آج کے جدید دور میں تازہ ترین خبروں کی ڈیڈ لائن کا رواج بھی تیزی سے فروغ پایا ہے۔جس کو رپورٹر پورے شوروغل کے ساتھ بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ڈیڈ لائن رپورٹنگ میںآنکھوں سے دیکھا ہوا بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے میڈیا کی خبروں کو چوری کر کے ایک دم بیان کر دینا بھی اخلاقی طور پر ممنوع ہے۔بریکنگ نیوز میں تصور کی جگہ کہیں بھی نہیں ہے۔ہر خبر تحقیق کے ساتھ بیان کیا جائے اگر کوئی حادثے میں بہت ذیادہ زخمی ہے تو اس کے بارے میں اکثر نیوز کاسٹرکے بیان سے اس قسم کا تاثر آتا ہے جیسے کہ زخمی چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔
یوں بریکنگ نیوز کی عالمی اقدار کو مدٌِ نظر رکھنا ازحد ضروری ہے اور ہر آرگنائزیشن کا اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔جب بھی کوئی تازہ ترین خبر آئے تو ایک ٹیم اس خبر کو سچ کی بنیادوں پر پرکھے،تحقیق بھی اعلی ہو۔جرنلسٹ اپنا کردار اس طرح ادا کرتا دکھائی دے کہ وہ کسی بھی تازہ ترین خبر کے متعلق کیا جانتا ہے؟کیسے جانتا ہے؟جن معلومات کو پیش کیا جا رہا ہے آیا وہ سچ پر مبنی ہیں یا محض زبان کا چسکہ ہیں۔واقع یا کہانی کی تصدیق کس نے کی ہے اور اس خبر کے نشر ہونے سے کمیونٹی پر کیا اثر نمایاں ہو گا؟اس کے علاوہ اس بات کا بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ تازہ ترین خبر سوشل میڈیا پر آن لائین نشر کی جائے گی یا آن ایر۔لوگوں کو اس خبر سے کیا فائدہ ہو گا؟کیایہ خبر لوگوں کے تحفظ کے لئے ہے یہ خطرے سے بچنے کےلئے۔خبر سے منسلک لوگ کون کون ہیں؟خبر سناتے ہوئے قیاس آرائی اور تکرار سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟اس بات کا خیال رکھنا کہ خبر کو بِنا گھبراہٹ اور غیر ضروری الارم والی کیفیت میں بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے جو کہ آج کل میڈیا پر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔خبر نشر کرنے والی ٹیم کو اس بات کا اندازہ ہو کہ ہر بات آن ایر نہ جائے یہ بات بھی اب عام ہو چکی ہے کہ جہاں کوئی حادثہ پیش آتا ہے یاکوئی ظلم کا شکار ہوتا ہے تو جرنلسٹ وہاں پہنچ کر انتہائی حیرت انگیز اور بعض اوقات کافی حد تک مضحکہ خیز سوالات پوچھتے ہیں جیسے قتل کے بعد مقتول کے گھر جانا اور ان سے پوچھنا کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔آپ کیا کہنا چاہیں گے؟جو غمگین ہے وہ کیا اپنے خیالات کا اظہار کرے گا۔جرنلسٹ کے بعض اوقات اس طرح کے سوالات موقع کی مناسبت سے نامناسب سے دکھائی دیتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ میڈیا ،یا جرنلسٹ بس غلطیاں ہی کرتے جا رہے ہیں اچھا کام بھی ہو رہا ہے لیکن تازہ ترین خبروں نے عوام کے دماغ کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ انھیں روزانہ کے حساب سے کسی نہ کسی حادثے کی خبر ہی ملتی ہے جبکہ میڈیا اگر مثبت کردار ادا کرے تو لوگوں کومثبت خبروں کی طرف بھی مائل کیا جا سکتا ہے اور یہ بہت بڑا کام ہو گا حادثات تو پہلے بھی ایسے ہی ہوتے ہونگے لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے ہر چیز بعض اوقات بہت ہی بے ڈھنگے طریقے سے سامنے آتی دکھائی دیتی ہے۔کیونکہ کبھی کبھی خبر کو دلچسپ بنانے کے لئے اس میں جھوٹ کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔

رپورٹس روزانہ کے حساب سے لکھی جاتی ہیں۔مقاصد سے متعلق،امکانات سے متعلق،تحقیقاتی رپورٹ،تشخیصی رپورٹ۔لیکن ان سب کا حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہے۔آسان اور سمجھ آنے والی بات ہو۔غلطیوں سے پاک ہواور جس کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے والوں کو آسانی ہو۔نتائج اور اخلاقیرپورٹنگ پر مبنی ہو۔
ڈاکٹر میری میگنوٹن کاسل کا کہنا ہے کہ بُری خبروں کے اثرات لوگوں کے مزاج میں تیزی سے تبدیلی لا رہے ہیں۔میڈیا نے سنسنی خیز خبروں کو ایک بزنس بنا لیا ہے۔یہ سنسنی خیزی اس حد تک نمایاں ہو گئی ہے کہ لوگوں کو دُور دُور تک کوئی جگہ محفوظ نہیں دکھائی دیتی ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس صورتِ حال پر کیسے قابو پایا جائے؟اس فیلڈ کے ماہرین کی یہ رائے ہے کہ منفی خبروں سے پرہیز کیا جائے ۔کیونکہ صبح دن کا آغازایسی خبروں سے ہو تو دماغ پر منفی اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔جس کا نمایاں اثر لوگوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔لوگوں کو منفی خبروں کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ بڑے سے بڑے سانحے کو سن کر وہ چند گھنٹے اُس خبر کے زیرِ اثر رہتے ہیں اور اُس کے بعد کسی اور تازہ ترین خبر کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔اس بات کی عکاسی اس تصویر کر سکتی ہے۔

1.Breaking news according to Wikipedia.
2.What is a Breaking news story?by Tony Rogers.2017.

3.The impact of the Breaking News, cycle on our health.
4.BREAKING NEWS: HOW THE MORNING NEWS AFFECTS OUR WELL BEING.
Tehseen Zahra

1 Comment
  • محمد ابوسفیان اعوان
    May 20, 2018 at 11:31 pm

    عوام الناس پر میڈیا کے منفی اثرات کو اجاگر کرتی ایک چشم کشا تحریر

Post a Comment