Top

بچے اور ٹی وی

بچے اور ٹی وی

عام طور پر بچے چھ مہینے سے بھی پہلے کارٹون دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور دو یا تین سال کی عمر میں وہ ٹی وی سکرین سے کافی حد تک مانوس ہو جاتے ہیں۔بچوں پر کارٹون کا اچھا اور برا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔

 

 

کارٹون ،بچوں کے دماغُ اور فطرت پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بچہ ٹی وی پر کیا دیکھ رہا ہے؟بچے والدین کی بے جا مصروفیات کی وجہ سے سمارٹ ٖفون اور ٹی وی سے دل بہلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سمارٹ فون اور ٹی وی نے بچوں کو کافی حد تک پُرسکون اور خاموش کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے بچے اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔لیکن ٹی وی اور سمارٹ فون کی لت نے بچوں کو معاشرتی دنیا سے الگ کر دیا ہے۔موجودہ جنریشن کافی حد تک اوور سمارٹ اور ایکٹو ہے لیکن اس جنریشن کا زیادہ وقت الیکٹرونک چیزوں کے ساتھ گزرتا ہے۔جو بچے ٹی وی زیادہ دیکھتے ہیں۔وہ صحت کے اعتبار سے ان بچوں سے کمزور ہوتے ہیں جو زیادہ تر باہر کھیل کود کو پسند کرتے ہیں۔
نیوزی لینڈمیں موجود یونیورسٹی آف آکلینڈ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر بچے سونے سے پہلے۹۰ منٹ ٹی وی یا ویڈیو گیم کھیلیں تو اُن کی نیند میں کافی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ریسرچرز نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ٹی وی اور گیمز کی تیز روشنی بچوں کے سرکیڈین سسٹم پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 

سرکیڈین سسٹم کو انٹرنل کلاک بھی کہا جاتا ہے۔جس پر اس چیز کی ذمے داری ہے کہ سونے اور جاگنے کا کیا وقت ہے۔

یہ ایک بائیو لوجیکل پروسس ہے ۔جو انسانوں کے علاوہ درختوں ،جانوروں،فنگس اور سائنو بیکٹیریا میں بھی پایا جاتا ہے۔یہ سب دیکھ کر خداکی قدرت پر بے اختیار سبحان اﷲ کہنے کو دل چاہتا ہے۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ جب ہم گوگل یا نیٹ چلاتے ہیں تو وہ بھی ٹائم سیٹ ہونے کے بعد ہی آگے معلومات فراہم کرتا ہے۔اسی طرح انسانی جسم میں دن اور رات کے فرق کے لئے اﷲنے لاجواب سسٹم بنا دیا ہے۔جس پر عمل کرنا صحت کی علامت ہے۔
ہائپو تھیلامس جو کہ دماغ کا حصہ ہے سرکیڈین ریدھم کو کنٹرول کرتا ہے۔روشنی اور اندھیر ا ا س پر اثر انداز ہوتا ہے۔جب اندھیرا ہوتا ہے تو ہائپوتھیلامس آنکھوں کو سگنل بھیجتا ہے کہ تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔

لیکن یہ سسٹم اُس وقت سب سے بہتر طور پر کام سرانجام دیتا ہے جب مناسب وقت پر سویا جائے۔یعنی رات کو جلدی سوئیں صبح جلدی اُٹھیں۔حتی کہ چھٹیوں کے دوران بھی اپنی روٹین کو خراب نہ کریں کیونکہ ٹی وی اور سمارٹ فون کی آرٹیفیشل روشنی اس سسٹم کو متاثر کرتی ہے۔نیند کی کمی انسان کے امیون رسپانس کو بھی متاثر کرتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ سسٹم تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔جیسے انسومنیا ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی نیند سے تعلق رکھتی ہے۔رات کی نیند پوری نہ ہونے سے انسان کی انرجی کم ہو جاتی ہے اور وہ ٹینشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ بچوں اور بڑوں میں انسومنیا کی پرابلم اس وقت ہوتی ہے جب ان کی نیند کی صورتِ حال خراب ہو جائے۔

۔ایک کارٹون میں بھی اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

چھوٹے بچے کارٹون اس لئے شوق سے دیکھتے ہیں کہ وہ حقیقت اور تخیل میں فرق نہیں کر سکتے۔ان کو لگتا ہے کہ کارٹون میں جو بھی نظر آرہا ہے وہ سب سچ ہے۔امریکن اکیڈمی آف چائلڈ اینڈ ایڈولسنٹ سائیکا ٹری کے مطابق،کارٹون میں موجود تششدد کو بار بار دیکھ کر ان کا دماغ سختی کو قبول کر لیتا ہے۔بچوں کا دماغ اور آنکھیں کارٹون میں گزرتے تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کو دیکھتی ہیں جو ان کے خیالات کو متاثر کرتی ہیں۔ان کے دماغ اس طرح کے کارٹون دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے اور بچے مار دھاڑ کو پسند کرنے لگتے ہیں اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ذیادہ کارٹون دیکھنے والے بچے سُست ہو جاتے ہیں وہ ایکسرسائز کو اہمیت نہیں دیتے۔جس کی وجہ سے اُن کا وزن تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
باؤلنگ گرین سٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق دیر تک ٹی وی دیکھنے سے دماغُ پر نقصان دہ اثرات مرٌتب ہوتے ہیں اور جو بچے مستقل مزاجی سے دیر تک کارٹون دیکھتے ہیں وہ پھر دوسرے کاموں پر اتنی توجہ مربوط نہیں کر سکتے جتنی ضروری ہوتی ہے اور یہ بات بھی دماغی کمزوری کی طرف جاتی ہے۔

 

کارٹون سیزر امیج
بینجمن ریڈفورڈ جو کہ سکیپٹکل انکوائرر سائنس میگزین میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں وہ لکھتے ہیں ،کہ دس سال پہلے ۱۲۰۰۰بچے پوکیمون کارٹون کی وجہ سے معمولی بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔

ورلڈنیوز نے دسمبر ۱۷،۱۹۹۷ میں ٹوکیو میں ۶۱۸ بچے پوکیمون کارٹون دیکھ کرقے اور آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔

یوکیو فوکویامہ جو کہ مرگی کے ایکسپرٹ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ٹی وی کی تیز روشنی دماغ پر منفی حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔جو کہ بچوں کی صحت کو بُری طرح متاثر کرتی ہے۔
بچوں پر کارٹون کا اچھا اور بُرا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔کیونکہ کارٹون براہِ راست بچوں کے دماغ اور فطرت پر اثر انداز ہوتے ہیں
خاص طور پر والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے بچے ٹی وی پر کس قسم کے کارٹون دیکھ رہے ہیں۔چھوٹے بچے اس لئے کارٹون شوق سے دیکھتے ہیں۔کہ وہ تخیل اور حقیقت میں فرق نہیں سمجھتے۔ان کو لگتا ہے کہ کارٹون میں جو نظر آرہا ہے ،وہ سچ ہے۔
کارٹون کے اچھے اور بُرے اثرات بچوں میں بآسانی دیکھے جا سکتے ہیں جیسے،
زندگی سنوار دوں اک نئی بہار دوں دنیا ہی بدل دوں ۔۔۔۔۔

ڈوریمون کی دنیا میں خوش آمدید۔یہ ایک روبوٹ ہے جس نے اپنے انسانی دوست کی زندگی کو آسان بنا دیا ہے۔اس کارٹون کے نقصان دہ ہونے کی کچھ وجوہات ہیں۔اس کارٹون میں ڈوریمون کے پاس جو گیجٹ ہے اس میں ہر قسم کے مسئلے کا حل ہوتا ہے۔آج کے بچے ٹیکنالوجی کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔اس کارٹون سے ان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہر قسم کی مشکل بنا محنت کئے صرف گیجٹ کے استعمال حل کی جا سکتی ہے کارٹون کا مرکزی کردار نوبیتا،مکمل طور پرڈوریمون پر انحصار کرتا ہے۔نوبیتا کا ہر جھوٹ ڈوریمون بہت صفائی سے چھپا لیتا ہے۔یہاں تک کہ وہ نوبیتا کے ٹیسٹ رزلٹ بھی اس کی امی سے چھُپا لیتا ہے۔اس طرح بچے زندگی کی اقدار کے بارے میں منفی رائے قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ہر مسئلے کا حل جھوٹ بولنے کو سمجھتے ہیں۔کارٹون میں موجود نوبیتا کمزور ہے۔جیان اور سونیو ذیادہ طاقتور ہیں۔نوبیتا ان کو پسند نہیں کرتااور ڈوریمون سے گیجٹس لے کر ان سے بدلہ لینے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔اس طرح کے کارٹون بچوں میں منفی تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود کارٹون کے مثبت اثرات سے بھی گریز نہیں کیا جا سکتا۔
اچھے کارٹون سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔کارٹون کی بدولت ملین آف مسیج مختصر وقت کے اندر بچوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔یہاں کچھ

کارٹون کے کرداروں کے بارے میں آپ کو بتایا جائے گا۔جو مثبت کردار کے حامل ہیں۔ جیسے
بینی کارٹون میں بہت چھوٹے بچوں کے لئے دلچسپ ایکٹیویٹز نظر آتی ہیں۔

بلو کلوز میں دماغی ایکٹیوٹیز دکھائی جاتی ہیں ۔

کارٹون کے کچھ کردار اچھے ہونے کے ساتھ ساتھ کافی مشہور بھی ہیں۔جن کو دیکھ کر بچوں کو اچھا میسج ملتا ہے جیسے
مکی ماؤس اگرچہ پُرانا کارٹون ہے۔لیکن اس میں یہ خوبی ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں خوش اور پُرسکون رہتا ہے۔

ونی دی پو ہ۔یہ کردار ایک پیلے رنگ کا بھالو ہے ۔جو بچوں کو یہ سکھاتا ہے کہ مختلف لوگوں اور مختلف حالات میں کس طرح مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

ٹام اینڈ جیری اگرچہ آپس میں بہت لڑتے ہیں لیکن اُن کے لڑنے میں بھی ایک مزہ ہے۔وہ بچوں کو سکھاتے ہیں کہ ایک جیسی پسند نہ ہوتے ہوئے بھی کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہا جا سکتا ہے۔

ڈیکسٹر ۔یہ ایک چھوٹا آئن سٹائن ہے جو بچوں کو کچھ نیا سوچنے کی ہمت دیتا ہے۔وہ اس لئے الگ دکھائی دیتا ہے کہ وہ ہمیشہ آوٹ آف باکس سوچتا ہے ایک دم کوئی منفرد آےئڈیا۔

پاور پف گرلز ۔یہ چھوٹی لڑکیاں،بچوں کو ٹیم ورک کی اہمیت کا احساس دِلاتی ہیں۔

بگز بنی کا کردار بچوں کو سکھاتاہے کہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ دماغی توجہ سے کیا جا سکتا ہے۔

پھینیز اینڈ فرب ۔یہ کردار بچوں کو کچھ نیا سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔یعنی بڑے مقاصد کے خواب بھی کامیابی حاصل کر لیتے
ہیں۔

لیکن ضروری نہیں کہ کارٹون کا ہرمرکزی کردار اچھا ہو جیسے شی چان جو کہ لوگوں کی عزت نہیں کرتا۔

جونی کوئسٹ تششدد کو سپورٹ کرتا ہے۔

یوں ہر چیز میں اچھائی اور برائی ہوتی ہے۔یہ بڑوں پر انحصار کرتا ہے کہ انھوں نے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے اچھی اور بری چیزوں کے درمیان کیسے مناسب حد قائم کرنی ہے۔

References.

1.Cartoon Network and its impact on Behaviour of school going children.
2.Cartoon violence and children sleep.
3.Bowling Green State University.
4.Benjamin Radford.Skeptical Inquirer Science magazine.
5.C.N.N, World News December 17, 1997.
6.Bchay TV. Maha Shakeel SAMA TV.
7.National Institute of General Medical Sciences.
8.Charles A Czeisier MD, Ph.D. Professor of sleep medicine at Haward Medical.
Tehseen Zahra

3 Comments
  • Shabana rehan
    January 23, 2018 at 10:06 am

    Bohat zabardast information he ye.i 100% agree .

  • fahim naqvi
    January 23, 2018 at 7:17 pm

    very informative nicely written Tehseen

  • M.Nazir Ahmad
    April 17, 2018 at 1:51 am

    Sharing of this type of valuable information is the need of this time, and being parents public must concentrate on it for the sake of his family etc.

Post a Comment