Top

ہم بیوقوف کیوں ہیں ؟

ہم بیوقوف کیوں ہیں ؟

انسان کا چال چلن کبھی اسے عظیم بنا دیتا ہے اور کبھی اس کے اپنے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔جھوٹ بولنا ،چیزیں چرانا،غصہ کرنا ،خود کو اذیت دینا اور کبھی کبھی دوسروں کو مارنے سے بھی گریز نہ کرنا۔
کبھی ایسا سوچا ہے کہ ایسا کیا ہے جس سے انسان اپنی حیثیت سے بہت نیچے چلا جاتا ہے۔اس کی وجہ وہ تباہ کن اقدام ہیں جو انسان سے کبھی غلطی سے سرزد ہوتے ہیں اور کہیں اس کے مزاج میں اس قدر مل جاتے ہیں کہ اچھے برے کا فرق معدوم ہوتا چلا جاتا ہے۔ان میں سے کچھ رویوں کا ذکر کچھ اس طرح ہے۔
جھوٹ بولنا۔
کوئی نہیں جانتا کہ انسان بے تحاشا جھوٹ کیوں بولتے ہیں ؟لیکن تحقیق کہتی ہے کہ یہ عام بات ہے اور اس کا تعلق انسانی نفسیات سے ہے۔سائیکالوجسٹ رابرٹ فیلڈمین کا کہنا ہے کہ انسان بعض اوقات اپنی خود اعتمادی کو بلندی سے بھی بلند دیکھنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔اس کی تحقیق کے مطابق بعض اوقات لوگ دس منٹ کی گفتگو میں ساٹھ فیصد تک جھوٹ کی آمیزش کرتے ہیں ۔ بہت سے لوگ جھوٹ کو مصلحت کا لبادہ پہنا کرخود کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔جھوٹ کو سچ کا لبادہ پہنانا انسان کا بدترین تششدد ہے۔جارحانہ رویہ انسان کو ماحول سے بھی ملتا ہے۔یہ انسانی رویوں میں بدترین رویہ ہے۔جس کو لوگ شوقیہ بھی اپناتے ہیں یعنی بلاوجہ ،بے معنی چیزوں میں بھی جھوٹ کا سہارا لینا۔جہاں تک بچوں کی تربیت کی بات ہے بچوں کے سامنے ہر حال میں سچ بولا جائے تو ان کو سچ بولنا سکھانا نہیں پڑے گا۔اگر بچہ صرف سچ بولنا ہی سیکھ جائے تو والدین کی تربیت کی آدھی ذمے داری کافی حد تک پوری ہو جاتی ہے۔کیونکہ جھوٹ اور دھوکے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔اسی لئے کسی بھی برائی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔
چوری کرنا۔
چوری کرنے کا تعلق بظاہر ضرورت سے ہے۔لیکن یہاں بھی بعض اوقات اپنی اندرونی خوشی کے لئے بھی لوگ یہ کام کرتے ہیں ۔
منی سوٹا یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے جان ای کا کہنا ہے۔
“بہت سے لوگ چوری اس وقت کرتے ہیں جب وہ کوئی چیز حاصل کرنے کے حامل نہ ہوں”۔لیکن چوری وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کے پاس سب کچھ ہوتا ہے اس میں وہ صرف فن کے لئے یہ برا کام کرتے ہیں ۔کیونکہ خراب عادتوں کو پکڑنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ جیسے سگریٹ پینا ایک بری عادت ہے جس کے نقصانات ہر کوئی جانتا ہے لیکن دل کی تسلی کے لئے ہر قسم کے نشے یہ کہہ کر کئے جاتے ہیں کہ
اس کے کرنے سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ ان کو یہ بات ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ کہ نشہ انھیں افسردہ نہیں کرتا ان کو کمزور نہیں کرتا ۔جبکہ یہ بات الٹ ہے جو انسان کمزور ہوتا ہے،حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ نشے میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔
دھونس جمانا)غنڈہ گردی)

دھونس جمانے کی عادت بچپن میں اور گھر کے ماحول سے پڑتی ہے۔جس کے نتیجہ میں بچے جہاں اپنے بھائی بہنوں پر دھونس جماتے ہیں وہاں گالیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔لیکن یہ بری عادت صرف بچپن تک ہی محدود نہیں رہتی بچے کے ساتھ ساتھ اس میں موجود اچھی اور بری عادتیں بھی بڑی ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔رفتہ رفتہ بچے بڑے ہو کر پوری دنیا پر دھونس جماتے دکھائی دیتے ہیں ۔دنیا میں طاقت کا توازن تمام جگہوں پر اسی لئے غیر متوازن دکھائی دیتا ہے جہاں ظالم ،مظلوم پر بآسانی حاوی ہو جاتا ہے۔
جوا۔
انسانی بدترین برائیوں میں سے ایک ایسی برائی ہے جس کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔اسی لئے کہ اس بیماری میں مبتلا انسان کی حالت بالکل اس انسان جیسی ہوتی ہے جس کو نشے کی لت لگی ہوتی ہے۔جب انسان کو یہ امید ہو جائے کہ بغیر کسی محنت کے ،بغیر ذمے داری کے قسمت بدل سکتی ہے ۔پیسہ آسکتا ہے۔تو ایسے انسان کچھ کام کئے بغیر کسی غیبی امداد کے منتظر رہتے ہیں جبکہ ان کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ جوئے کی لت میں وہ اپنا گھر ،رشتے سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہوتے ہیں اور اگر وہ پیسہ کمانے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو غلط کام سے جو پیسہ کمایا جاتا ہے وہ اپنے ساتھ اور دوسری نحوستیں ساتھ لاتا ہے اور جیسے آتا ہے ویسے ہی جاتا ہے۔
افواہیں ۔
جو سچ پر مبنی نہیں ہوتیں ۔صرف اپنی پسند ،نہ پسند یا بعضاوقات بدلہ لینے والے لوگ افواہوں میں ازحد دلچسپی رکھتے ہیں ۔جب دو انسان آپس میں ان کے مطابق کسی نا پسندیدہ انسان کا ذکر کریں تو افواہیں پھلتی پھولتی ہیں ۔افواہیں ناپسندیدہ انسانوں کو آپس میں ملانے کا سبب بنتی ہیں ۔اس وقت انسان کی بری نیت سامنے آتی ہے جب وہ کسی افواہ کو سن کر اسے مزید دلچسپ بنا کر آگے پھیلاتے ہیں ۔
اس طرح کے اور بہت رویوں کی بدولت آج کا انسان ازحد بے چین اور پریشان دکھائی دیتا ہے۔ان برائیوں کی بدولت ذہنی دباؤ کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے نت نئی خطرناک بیماریاں سامنے آتی ہیں اور جب ذہنی دباؤ حد سے ذیادہ بڑھ جائے تو انسان خود کشی پر آمادہ ہو جاتاہے۔ جو کہ ایک کمزور ترین عمل ہے۔ذہنی دباؤ آج کے دور میں بہت ذیادہ بڑھتا جا رہا ہے جس کی ایک وجہ انسان کو خود کے لئے وقت نہ نکالنا اور تمام تر انحصار سائینس کی ایجادات پر بھروسہ کر کے جسمانی مشقت کو ایک طرف رکھ کر سکون کو سائینسی ایجادات میں ڈھونڈنا ہے۔
تحسین زہرا

No Comments

Post a Comment