Top

نامناسب جملے

نامناسب جملے

کچھ ایسے جملے ،جو والدین دن میں کئی بار بولتے ہیں اور بچے سن کر کوئی خاص رسپانس نہیں دے رہے ہوتے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس طرح والدین نے چند جملے دہرا کر بچوں کو منع کرنا ہوتا ہے۔با لکل اسی طرح بچے ایسے جملے سننے کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ بعض اوقات بچوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہمارے بچے اکثر ہمارے لئے آئینہ ثابت ہو تے ہیں ۔وقت گزرنے کے بعداحساس ہوتا ہے کہ اگر اپنی بات کو سادہ اور نرم لہجے میں بیان کرتے توبچے اچھا رسپانس کرتے۔
بعض اوقات اگر سخت اور ترش لہجوں پر غور کیا جائے تو اس انداز کو بدلنا،کہنا ،کرنا بظاہر مشکل محسوس ہوتا ہے۔لیکن اس مشکل پر قابو پانے سے آگے کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کو آسان اور خوشگوار بنانے کے لئے لفظوں کو بہتر انداز میں ادا کیا جائے۔اگر ان جملوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے تو نہ صرف یہ جملے بار بار ادا کرنے کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی بچوں کو اس بات کا احساس ہو گا کہ ان کے والدین ہمیشہ ایک جیسی باتیں کرتے ہیں ۔
بچوں سے ہمیشہ نرم لہجے میں بات کریں۔ڈانٹنے کے انداز میں بھی ٹھہراؤ اور نرمی لائیں ۔کیونکہ کسی بھی انسان کے اندرکمال سے ذیادہ اچھائی کی طرف پیش رفت ہونااز حد ضروری ہے۔
سب سے پہلے بچوں میں اپنی نرم گفتگو سے یہ احساس پیدا کریں کہ ان کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ہر جگہ جانے سے پہلے بچوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ “تمیز سے”یہ لفظ کہہ کر ہم خود ہی اس بات کی نفی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے بچوں میں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ۔اس بات کو اس انداز سے بھی بچوں کو سمجھایا جاسکتا ہے کہ آپ کہیں بھی جائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے جیسے پارک جائیں تو لوگوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی نقصان نہ پہنچائیں ۔بہت سے بچوں کو پارکمیں موجود کیڑے مکوڑے مارنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ان کو اس طرح بتایءں کہ درخت پر چڑھنے والے کیڑے اپنے بچوں کے لئے کھانا لے کر جا رہے ہیں ان کو مت تنگ کریں ۔اس انداز سے بچوں کوسمجھایا جائے تو ان کی تنقیدی صلاحیت مثبت کردا ادا کرے گی۔
“براہِ مہربانی آرام سے بات کریں ”
یہ بات کرنے کے لئے بھی والدین کو بچوں سے نرم لہجے میں سرگوشی کے انداز میں بات کرنی چاہئے۔جبکہ یہ کہنے کے لئے بعض والدین اپنی پوری طاقت کا استعمال آواز کو پُر اثر بنانے میں کر دیتے ہیں۔
بہت سے بچے قدرتی طور پر زور سے بولتے ہیں ۔ایسے بچوں کے ساتھ سرگوشی میں بات کریں رفتہ رفتہ ان کو بھی عادت ہو جائے گی ۔ہلکی بول چال اور آنکھ کے اشارے سے بچوں کو دھیما بولنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔
“اپنا کام خود کرنا سیکھو”اس سے بہتر جملہ بھی بولا جا سکتا ہے جس سے بچے کی انا مجروح نہ ہو بلکہ اس کو احساس ہو کہ وہ اپنے والدین کی مدد کس طرح کر سکتا ہے۔اس جملے کو اس طرح بولنا ذیادہ سود مند ثابت ہو گا کہ”کیا تم پسند کرو گے کہ تم خود سے میری مدد کرو گے”کیا تم جوتے خود پہننا پسند کروگے؟کیا اپنی کتابیں خود بیگ میں رکھوگے؟اس انداز سے بچوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ وہ اب بڑے ہو گئے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام کر کے والدین کی مدد کر سکتے ہیں ۔بچوں میں مثبت احساس پیدا ہو گا۔
“شرم کرو”یہ لفظ بچے پر منفی اثر ڈالتا ہے اور وہ بار بار یہ لفظ سن کر اس لفظ کا عادی بن جاتا ہے ۔اگر بچہ کوئی غلطی کرے تو اس کو سمجھائیں کہ اس نے غلط کیا۔اپنی آواز کو جاندار بنانے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے لفظوں کو بہتر انداز میں ادا کریں ۔یعنی بچہ غلطی کرے تو اس کو سمجھائیں کہ اگلی بار یہ غلطی دہراؤ گے تو پھر سے کسی پریشانی میں مبتلا ہو جاؤ گے اور یہ بھی کہ تم نے اس غلطی سے کیا سیکھا۔ایسا کہنے سے اگلی بار بچے کی توجہ کی گئی حوصلہ افزائی پر مرکوز ہو جائے گی اور وہ دوبارہ جان بوجھ کر غلطی نہیں کرے گا۔
“براہِ مہربانی”
“براہِ مہربانی”اپنے جوتے اتار کر اندرآئیں ۔براہِ مہربانی کھانا کھائیں ۔
دیکھا جائے تو پلیز کا لفظ ذیادہ تر ہوٹلوں کے بیرے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔یا پھر کسی پرتکلف دعوت میں یہ سننے کو ملتا ہے۔ممکن ہو تو ایسے لفظ بچوں سے بات کرتے ہوئے اگر استعمال کئے جائیں تو بچوں کے مزاج میں خود بخود نرمی دکھائی دے گی۔
ایک اور جملہ جو ہربچوں کو سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے”جلدی کرو”دیر ہو رہی ہے۔اس جملے کو ایسے بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں چیتے کی طرح پھرتی دکھانی ہے۔اس وقت گھوڑے کی تیزی سے بھاگنا ہے۔دیکھتے ہیں کتنا جلدی ہم یہ کام کر سکتے ہیں ۔
“بس اب جلدی کرو صرف دس منٹ رہ گئے ہیں “عام طور پر یہ لفظ بہت بولا جاتا ہے۔جبکہ اس جملے کو اگر ایسے کہا جائے تو بچوں کے سمجھنے کی صلاحیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔جیسے ،بچوں تمہارے کھیلنے کے لئے اور دس منٹ ہیں ۔یہ کہہ کر آپ بچے پر اپنا حکم صادر نہیں کر رہے ہوتے۔بلکہ اس کو ایک موقع دے رہے ہوتے ہیں ۔اگر بچوں کو چوائس دی جائے تو وہ خوشی سے کام یا کھیل کو نبھاتے ہیں ۔
“ہم یہ کھلونا نہیں خرید سکتے”ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ اچھے سے اچھا کھلونا خریدے اور خود والدین کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ جو بات بچے کے منہ سے نکلے وہ پوری ہو جائے مگر بعض اوقات معاشی حالات سے جہاں انسان مجبور ہو جاتا ہے وہاں سخت الفاظ بولنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔لیکن اس سے بچوں کی نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ جو چیزخریدنی ممکن نا ہو بچوں سے کہیں کہ وہ چیز اپنی آنے والی سالگرہ کی فہرست میں لکھ لیں ۔اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ازحد ضروری ہے کہ دوسروں کی چیزیں دیکھ کر لینے کی ضد نہیں کرنی چاہئے۔بچے بہت سمجھدار ہوتے ہیں ۔ان کی سمجھ کو سمجھ کر اگر سمجھایا جائے تو وہ اس پر عمل کرتے ہیں ۔
بچوں کو دن میں ایک بار ضرور سکون سے بٹھا کر زور زور سے سانس لینے کا کہیں ۔اس سے نہ صرف بچے کی شخصیت میں ٹھہراؤ آئے گا بلکہ ان کی بے چین طبعیت کو بھی قرار آئے گا۔
“اپنی اور دوسروں کی عزت کرو”اس جملے کو اس انداز میں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ “اچھے بنو”جب بچے اچھا بننے کی کوشش کریں گے تو وہ دوسروں کی عزت خود بخود کریں گے۔
“ٹیم ورک کی مہارت لاؤ،باس مت بنو”یہ جملہ کہنے کے بعد عام طور پر والدین کی طرف سے بچوں کو ایک لیکچر دیا جاتا ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی تم سے بات کرنا پسند نہیں کرے گا اگر تم دوسرے بچوں پر رعب ڈالو گے۔کوئی بھی تم سے نہیں کھیلے گا۔بات بالکل درست ہے لیکن انداز درست نہیں ہے۔ اس بات کو ایسے بھی کہا جا سکتا ہے۔کہ تم بہت اچھے ہو لیکن سب کے ساتھ ٹیم ورک کرو گے تو اور اچھے لگو گے اور سب خوش بھی ہوں گے۔جن بچوں میں باس بننے کا شوق ہو۔ان کو بتائیں کہ اچھے باس کیسے ہوتے ہیں ۔بچوں سے بات چیت کے ذرئعے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے مگر آج کل کی مصروفیات میں والدین بچوں کو بری بات پر برا بھلا کہنے کے لئے تو ٹائم نکال لیتے ہیں لیکن ان کے پاس بیٹھ کر بچوں سے بات کرنا ان کو ٹائم دینا آج کل مشکل دکھائی دیتا ہے۔
“بچے مت بنو،چیخو مت”جب بچوں پر رعب ڈال کر اس بات پر مجبور کیا جائے کہ اپنا بنا ہوا منہ درست کر لیں ۔تو ان الفاظ سے تو مزید خرابی پیدا ہو گی۔بچوں کی غلطی کو نظر انداز کر کے ان کو یہ سمجھایا جائے کہ وہ سپر ہیرو کی طرح طاقتور ہیں ۔اس لئے نہ ان کو چیخنا چاہئے اور نہ ہی ہر بات پر ناراض ہونا چاہیے۔
تم اپنا خیال کیسے رکھ سکتے ہو؟یہ جملہ کہنے کی بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔کہ بچے کو مخاطب ہو کر پوچھیں کہ وہ کون سی ایسی چیزیں ہیں جن کو تم خود ذیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہو۔
“جلدی کرو”آج کل کا یہ بہت عام جملہ ہے جو دن میں بے شمار بار بولا جاتا ہے۔یہ سوچے بغیر کہ جن بچوں سے ہم مخاطب ہیں وہ معصوم ہیں اور اپنی سمجھ کے اور ہمت کے مطابق کام کریں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو کام بچے ،بڑوں کی دی گئی رفتا ر کے پیمانے کے مطابق نہیں کرتے وہ بے چینی اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
“مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں “یہ جملہ ایسا ہے جو بچے کو دیوار سے لگانے کے لئے کافی ہے۔بچوں کا ذہن بہت معصوم ہوتا ہے اس لئے ان سے بات کرتے لفظوں کا چناؤ بھی ایسا ہو جس کو وہ سمجھیں اور اس پر شوق سے عمل کریں ۔اس جملے کو اگر ایسے ادا کیا جائے تو ذیادہ بہتر ہے۔بچے سے یہ کہا جائے۔کہ تم ذمے دار ہو ۔اس لئے مجھے اچھا لگے گا کہ تم اپنا خیال خود رکھو۔اس سے بچے میں احساسِ ذمے داری پیدا ہو گی۔
مجھے تم پر یقین ہے اور تمہاری سپورٹ کے لئے ہر وقت تیار ہوں ۔یہ جملہ بہت بہتر ہے یہ کہنے سے کہ میں وہ سب کیوں مانوں جو تم چاہتے ہو۔اگر بچوں کو اپنے ہونے کا احساس دلائے تو جہاں وہ احساس ذمے داری سیکھیں گے ۔وہاں اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ ہماری محبت کا معیاربچوں کی اس کارکردگی پر نہیں ہے جو وہ سارا دن سر انجام دیتے ہیں بلکہ ہم انھیں دل کی گہرائی سے چاہتے ہیں ۔اہم ہونے کا احساس بچے میں اپنی محبت سے اجاگر کرنا والدین کی ذمے داری ہے۔
بچوں کو ہر وقت روک ٹوک نہ کریں لیکن اس بات کا بھی خیال رہے کہ کوئی اور بچے کو منع کرے یہ والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت ایسے کریں کہ کوئی ان کو روک ٹوک نہ کر سکے۔
بچوں کی مدد کریں کہ وہ اپنے جذبات کو پہچان سکیں ۔ایسا کر کے بچوں کے رویوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آئے گا ۔جس میں عزت بھی ہو گی اور محبت بھی۔

1 Comment
  • Raazia qamar
    October 10, 2018 at 6:53 pm

    Very informative ,if we follow such positivity in our conversation and acts we can make our generation optimists

Post a Comment