Top

قرآن درمیان

قرآن درمیان

قرآن درمیان

ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کر دی ہیں ۔لیکن انسان تمام چیزوں سے ذیادہ جھگڑالو ہے۔
ایک بار بنی اسرائیل والوں نے حضرت موسی سے سوال کیا کہ اس وقت زمین میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟موسی نے جواب دیا”میں “یہ حقیقت ہے کہ پیغمبر سے بڑا عالم کوئی نہیں ہوتا۔لیکن اﷲ کو یہ انداز پسند نہ آیا۔اﷲ نے موسی کوجناب خضر سے ملنے کا حکم دیا اور سمندر میں اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں دو سمندر آپس میں ملتے ہیں ۔لیکن پھر بھی دونوں میں ایسا پردہ حائل ہے کہ وہ دونوں سمندروں کے پانی آپس میں ضم نہیں ہوتے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے تو واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب موسی نے اپنے خادم سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گایہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم تک پہنچوںیا پھر میں عرصہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔جب وہ دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے تو وہاں اپنی مچھلی بھول گئے۔جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا۔جب وہ دونوں وہاں سے آگے بڑھے تو موسی نے اپنے نوجوان سے کہا کہ ہمارا ناشتہ دے۔ہمیں تو اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی ۔اس نے جواب دیاکیا آپ نے دیکھانہیں کہ جب ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے،وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا۔دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پردریا میں اپنا راستہ کر لیا۔موسی نے کہا یہی تھاوہ مقام جس کی تلاش میں ہم تھے۔
چنانچہ وہیں سے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے دیکھتے واپس لوٹے۔سو وہاں انھوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔اُس سے موسی نے کہا کہ میں آپ کی تا بعداری کروںیا آپ مجھے وہ نیک علم سکھا دیں۔جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔
اُس نے کہا آپ میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکتے اور جس چیز کی حقیقت کا آپ کو علم ہی نہ ہو اس پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟موسی نے جواب دیا کہ انشاء اﷲآپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور کسی بات میں آپ کی نا فرمانی نہ کروں گا۔اس نے کہا ،اچھااگر آپ میرے ساتھ ہی چلنے پر اصرار کرتے ہیں تو یاد رہے کہ کسی چیز کی نسبت ،مجھ سے کچھ مت پوچھنا۔جب تک کہ میں خود اس کی نسبت سے کوئی تذکرہ نہ کر دوں ۔
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔خضر نے اس کے تختے توڑدئے ۔موسی نے کہا کیا آپ اسے توڑرہے ہیں ؟کہ کشتی والوں کو ڈبو دیں یہ توآ پ نے بڑی خطرناک بات کر دی۔خضر نے جواب دیا میں نے پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔موسی نے جواب دیا کہ میری بھول پرمجھے نہ پکڑئے اور مجھے میرے کام میں تنگی میں نہ ڈالئے گا پھر دونوں چلے یہاں تک کہ وہ ایک لڑکے کو ملے۔خضر نے اسے مار ڈالا۔موسی نے کہا کیا آپ نے ایک بے گناہ کی جان لی اور وہ بھی کسی کے خون کے بدلے میں نہیںیہ تو آپ نے بڑی ہی بے جا اور نا پسندیدہ حرکت کی۔وہ کہنے لگے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔

موسی نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔یقیناًآپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے ہیں ۔پھر دونوں چلے ایک گاؤں والوں کے پاس آکر ان سے کھانا طلب کیا۔انھوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ بس دونوں نےوہاں ایک دیوار پائی جو گِرا ہی چاہتی تھی خضر نے اسے درست اور ٹھیک کر دیا۔موسی کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔خضر نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دوں گا۔جن پر تئجھ سے صبر نہ ہو سکا۔کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کرنے کا ارادہ کر لیا کیونکہ آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک صحیح سالم کشتی کو ضبط کر لیتا تھااور اس نوجوان کے ماں باپ ایماندار تھے ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انھیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز و پریشان نہ کر دے اس لئے ہم نے چاہا کہ انھیں اس کا پروردگار اس سے بہتر پاگیزگی والا اور اس سے ذیادہ محبت پیار والا بچہ عنایت فرمائے۔دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے۔ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا۔تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور محنت سے نکال لیں ۔میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔اﷲ پر بھروسہ رکھو جو بہترین کارساز اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
جہاں تک جنابِ خضر کا ذکر ہے تو وہ حضرت آدم کی اولاد سے ہیں اور تاقیامت زندہ رہیں گے ۔ان کی کنیت ابوالعباس،نام بلیا ،والد کا نام ملکان ہے۔بلیا،سریانی زبان کا لفظ ہے ۔عربی زبان میں اس کا ترجمہ احمد ہے۔جنابِ خضر کا تعلق بہت اعلی خاندان سے تھا ان کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے۔ان کا دور حضرت ابراہیم کے دور سے بعد کا ہے حالانکہ وہ دور حضرت موسی سے کئی سو برس پہلے دور کے فوری بعد کا ہے۔
تفسیر،روح والبیان میں ہے کہ حضرت یوسف جو کہ حضرت ابراہیم کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور حضرت موسی کے درمیان چار سو سال کا فرق ہے۔اس لحاظ سے حضرت امام بدرالدین نے ،شرح بخاری میں لکھا ہے کہ جنابِ خضر زندہ ہیں ۔

بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔یقیناًآپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے ہیں ۔پھر دونوں چلے ایک گاؤں والوں کے پاس آکر ان سے کھانا طلب کیا۔انھوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ بس دونوں نےوہاں ایک دیوار پائی جو گِرا ہی چاہتی تھی خضر نے اسے درست اور ٹھیک کر دیا۔موسی کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔خضر نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دوں گا۔جن پر تئجھ سے صبر نہ ہو سکا۔کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کرنے کا ارادہ کر لیا کیونکہ آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک صحیح سالم کشتی کو ضبط کر لیتا تھااور اس نوجوان کے ماں باپ ایماندار تھے ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انھیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز و پریشان نہ کر دے اس لئے ہم نے چاہا کہ انھیں اس کا پروردگار اس سے بہتر پاگیزگی والا اور اس سے ذیادہ محبت پیار والا بچہ عنایت فرمائے۔دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے۔ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا۔تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور محنت سے نکال لیں ۔میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔اﷲ پر بھروسہ رکھو جو بہترین کارساز اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
جہاں تک جنابِ خضر کا ذکر ہے تو وہ حضرت آدم کی اولاد سے ہیں اور تاقیامت زندہ رہیں گے ۔ان کی کنیت ابوالعباس،نام بلیا ،والد کا نام ملکان ہے۔بلیا،سریانی زبان کا لفظ ہے ۔عربی زبان میں اس کا ترجمہ احمد ہے۔جنابِ خضر کا تعلق بہت اعلی خاندان سے تھا ان کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے۔ان کا دور حضرت ابراہیم کے دور سے بعد کا ہے حالانکہ وہ دور حضرت موسی سے کئی سو برس پہلے دور کے فوری بعد کا ہے۔
تفسیر،روح والبیان میں ہے کہ حضرت یوسف جو کہ حضرت ابراہیم کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور حضرت موسی کے درمیان چار سو سال کا فرق ہے۔اس لحاظ سے حضرت امام بدرالدین نے ،شرح بخاری میں لکھا ہے کہ جنابِ خضر زندہ ہیں ۔

جنابِ خضر کے بارے ایسٹ  کی چوتھی اور پانچویں اسلامیات کی کتابوں میں بچوں کی دلچسپی اور معلومات کے لئے جہاں وقت اور پلِ صراط کا ذکر ہے وہاں اور بھی بہت سارے سوالات ہیں جو دو چھوٹے بچے ،حریم اور حذیفہ پوچھ رہے ہیں اور جنابِ خضر ان کے جوابات دے رہے ہیں ۔اگر آپ بھی جاننا چاہتے ہیں تو آئیں اور دینِ اسلام کے متعلق جانیں ۔

And you can check more by click on the mentioned Links:

https://east.education/portfolio-item/islamic-stories-islamiat-in-urdu-class-4/
https://east.education/portfolio-item/children-stories-islamiat-urdu-5/

https://east.education/portfolio-item/children-stories-islamiat-urdu-5/

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating / 5. Vote count:

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

No Comments

Post a Comment