Top

رنگ بھی کیا شے ہے

رنگ بھی کیا شے ہے

رنگ بھی کیا شے ہے

ذرا ایک منٹ کو سوچیں کہ ہمارے اردگرد دنیا میں جو رنگ بکھرے ہوئے ہیں وہ اگر نہ ہوں تو زندگی کیسی لگے رنگ بھی کیا شے ہےکہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  رنگ انسانی مزاج اور موڈکو پرکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کینیتھ فیہرمین جو کہ رنگ ، کی کو آتھر بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ رنگ ان کے مزاج پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ہر رنگ انسان پر الگ طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے اور جہاں تک بچوں کی بات ہے۔تیز رنگ بچوں کی توجہ تیزی سے اپنی طرف مبذول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔بچے تیز رنگ اس لئے پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کی آنکھیں بہت کم عمر میں دھیمے رنگوں کی پہچان نہیں کر پاتیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ رنگ جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔جہاں تک رنگوں کی کھوج کے بارے میں دیکھا جائے کہ رنگ بھی کیا شے ہے۔

تو۴۰ہزار سال پہلے مصوروں نے رنگدار مادوں کا ذخیرہ جس میں مٹی کا مجموعہ،جانوروں کی چربی،سوکھا چارکول اور چاک شامل تھا۔ان تمام چیزوں کے مجموعے سے مسلسل تلاش کے بعدسائنسدانوں نے پانچ رنگ،لال،پیلا،براؤن،کالا اور سفید بنایا۔اسی لئے رنگوں کی تاریخ مسلسل ایجاد کا نام ہے۔جس میں سائنس دانوں نے نت نئے تجربات کئے کہ رنگ بھی کیا شے ہے۔سرآئزک نیوٹن نے کلر وہیل،رنگوں کا پہیہ۱۶۶۶ میں ایجاد کیا۔جس میں بارہ رنگ تھے۔

 رنگ بھی کیا شے ہے

بنیادی رنگ

اس میں بنیادی رنگ پیلا،لال اور نیلا ہے۔اورنج،ہرا اور جامنی رنگ سیکنڈری ہے۔
صدیوں سامعین کے سامنے پیش کیا۔ان میں انٹیریر ڈیزائنر بھی تھے اور مشتہیرین بھی۔انھوں نے رنگوں کے ا متزاج کو لوگوں کے سامنے پیش کیا کہ رنگ بھی کیا شے ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ رنگ انسانی مزاج پر اثر انداز ہوتے ہیںیا ان کی شناخت اور پیمائش کی جا سکتی ہے ہماری زندگی کو بہتر بنانے کے لئے یہ کیسے ممکن ہے؟
سائنس میں رنگوں کی سائیکالوجی میں یہی دیکھا جا تا ہے کہ وہ انسانی مزاج پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔رنگ اپنے آپ میں سادہ نہیں ہوتے۔ان کو بھگو کر رنگوں کا امتزاج بنایا جاتا ہے۔جس میں مناسبت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ان کو بھگو کر اور ان کا مناسب امتزاج بنانے کے لئے ان کی چمک کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔
بہت سے رنگ علاقوں کی ثقافت کے مطابق ہوتے ہیں۔جیسے امریکہ میں دلہنوں کا لباس سفید ہوتا ہے۔لیکن ایشیائی ثقافت میںیہ رنگ موت اور اداسی کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح ایشیائی ثقافت میں جہاں لال رنگ،وارننگ اور خطرے کو ظاہر کرتا ہے جیسے ریڈزون،وہیں ویلنٹائن ڈے پر سرخ گلاب کا تحفہ دیا جاتا ہے۔لیکن رنگوں کو موڈ اور مزاج کے مطابق استعمال کرنا بھی مکمل طور پر ٹھیک سائن نہیں ہے۔کیونکہ متغیرات بہت ہیں لیکن انفرادی طور پر اس کا اثر بہت بڑا ہے۔ابھی تک ریسرچ تجویز دیتی دکھائی دیتی ہے کہ کچھ رنگ لوگوں کے مزاج کے لئے قابلِ پیمائش ہیں لیکن یہ سب پر لاگونہیں ہوتا۔ثقافتی رنگ  بہت طاقتور ہوتے ہیں

:آیے رنگوں کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ رنگ بھی کیا شے ہے

لال رنگ جہاں خطرے ،انتباہ ،غلطی اور گرمی کو ظاہر کرتا ہے۔وہاں محبت کے شدید احساس کو بھی ابھارتا ہے۔اس کو علامتی طور پر جنگ اور خون کی علامت بھی تصور کیا جاتا ہے۔کچھ مطالعات میں لال رنگ بھوک کو بہتر بناتا ہے۔یونیورسٹی ریسرچ آف برٹش کولمبیا نے یہ بات ثابت کی ہے کہ لال رنگ کسی چیز پر توجہ مذکور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پیلا رنگ چمک دار ہوتا ہے اور دھوپ میں بھی آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔پیلا رنگ چمک، خوشی اور سورج کی علامت سمجھا جاتا ہے۔یہ مثبت طاقت،ذہانت،وفاداری اور خوشی کو ظاہر کرتا ہے۔
نیلا رنگ ،آسمان اور سمندر کا ہے۔اس لئے اس کو گہرائی اور استحکام سے تشبہیہ دی جاتی ہے۔یہ وفاداری،اعتماد،حکمت،سچ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
گلابی رنگ محبت اور رومانس کوظاہر کرتا ہے۔یہ رنگ صنفِ نازک سے متعلق ہے۔عام طور پر یہ رنگ پُرسکون تاثر دیتا ہے۔
نارنجی رنگ ،پیلے اور لال رنگ کے امتزاج سے بنتا ہے۔یہ رنگ جوش اور حوصلے کو ظاہر کرتا ہے۔
براؤن رنگ،لال ،پیلا اور اورنج جیسے تیز رنگوں سے بنتا ہے۔لیکن یہ اتناحوصلہ افزاء اور پرجوش رنگ نہیں ہوتا۔یہ زمینی رنگ طاقت اور سیکیورٹی کو ظاہر کرتا ہے۔
ہرا رنگ ،نیلے اور پیلے رنگ کے امتزاج سے بنتا ہے۔یہ عام طور پر جسمانی سکون کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ساتھ ساتھ جذباتی زندگی کو بھی سکون فراہم کرتا ہے۔یہ رنگ فطرت سے منسوب ہے۔
جامنی رنگ،بادشاہت،دولت اور عیش وآرام کو ظاہر کرتا ہے۔یہ روح اور حکمت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔یہ رنگ خیالات اور روحانیت کو ظاہر کرتا ہے۔جامنی رنگ ،تیز لال اور نیلے رنگ کے امتزاج سے بنتا ہے۔
سفید رنگ،پاکیزیت،معصومیت اور اچھائی کو ظاہر کرتا ہے۔لال ،ہرے اور ہلکے نیلے رنگ کو ملانے سے سفید رنگ بنتا ہے۔
کالا رنگ ،جہاں طاقت،خوف ،اسرار،اختیار کوظاہر کرتا ہے۔وہاں موت ،برائی ،غم کا رنگ بھی تصور کیا جاتا ہے۔کالا رنگ،لال،پیلے اور نیلے رنگ کو ملانے سے بنتا ہے.
یوں تو رنگوں سے ہی خوبصورتی ہے کہ رنگ بھی کیا شے ہے لیکن بہت سے لوگ ،رنگوں سے خوف کھاتے ہیں اس بیماری کوکرومیٹو فوبیاکا نام دیا جاتا ہے۔یہ لفظ لاطینی زبان سے اخذ کیا گیا ہے۔جو کہ رنگ اور گہرائی سے بچاؤ کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔یاد رہے کہ کرومیٹوفوبیا اور کروموفوبیا کا ردٌِ عمل ایک جیسا ہوتا ہے۔لیکن کسی خوشبو کے خوف کواوسموفوبیا کہا جاتا ہے۔لہذا جب کرومیٹوفوبیا کا بیان ہو تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی انسان کسی خاص رنگ سے خوف کھاتا ہے۔امریکہ کی مشہور شخصیت بلی بوب ہے جس کو کرومیٹوفوبیا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ مختلف رنگوں سے خوف کو کیا نام دیا جاتا ہے۔
نیلے رنگ سے خوف کھانے والوں کو سینافوبیا کا نام دیا جاتا ہے۔
پیلے رنگ سے خوف کھانے والوں کو زینتھ فوبیاکہا جاتا ہے۔
ہرے رنگ سے خوف کو پریسن فوبیاکا نام دیا جاتا ہے۔
اورنج رنگ سے خوف کو کریسو فوبیا کا نام دیا جاتا ہے۔
گلابی رنگ کا خوف کھانے والوں کو روڈو فوبیا کا نام دیا جاتا ہے۔
براؤن رنگ سے خوف ذدہ ہونے والوں کوکاسٹینو فوبیا کا نام دیاجاتا ہے۔

  سفید رنگ سے خوف کرنے والوں لوکوفوبیاکانام دیا جاتا ہے۔
کالے رنگ سے خوف کھانے والوں کو میلن فوبیا کا نام دیا جاتا ہے۔
دیکھا جائے تو رنگوں سے خوف کھانے کی وجہ،بچپن کے حالات و واقعات کا برے طریقے سے اثر انداز ہونا ہے۔اس کی ایک وجہ وراثت بھی ہے۔یا پھر کوئی بچپن کا نا پسندیدہ واقعہ۔جیسے بچپن کے خوف ،بچوں کو ڈرانا،مارنا ان پر چیخنا چلانا۔کوئی حادثہ ،تششدد کسی خاص رنگَ سے منسلک ہو جاتا ہے اور اس رنگ کو دیکھ کر کرومیٹو فوبیا کا مریض گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔اس بیماری کی علامات یہ ہیں کہ کسی مخصوص رنگ کو دیکھ کر خوف میں مبتلا ہو جانا،سانس نہ آنا، تیز تیز سانس لینا،پسینہ آنا،دل کی دھڑکن تیز ہونا،قے آنا،منہ خشک رہنا،کانپنا۔
بہت سے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ رنگ ان کی زندگی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔اس بات کو بیڈروم۔بچوں کے لئے رنگوں کی اتنی اہمیت ہے کہ وہ بچپن میں رنگوں کومختلف چیزوں سے منسلک کر دیتے ہیں۔جیسے لال رنگ کو سیب سے،اورنج رنگ کو مالٹے سے ،پیلے رنگ کو سورج سے ،ہری گھاس ،نیلا آسمان ۔یوں رنگ انسانی زندگی میں ایک خاص کشش کا باعث بنتے ہیں کہ رنگ بھی کیا شےہے۔
تحسین زہرا

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating / 5. Vote count:

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

4 Comments
  • Hifza
    February 21, 2019 at 1:57 am

    Very interesting.

  • ace 333 free credit
    February 22, 2019 at 11:08 am

    Well it’s not exactly universal healthcare is one? Call of Duty: World at War is an impressive
    shoot ’em up game based in World War II. The White Sox need a fresh cleaning and fast. http://play-poker-game.com/casino/common-sense-tips-in-keeping-consistent-wins-at-any-online-casino/

  • keo nha cai
    February 22, 2019 at 10:32 pm

    This work reveals some sort of poetic mood and everyone would easily be attracted by it.
    Leonardo Da Vinci came to be in the Florentine
    Republic on April 15th, 1452. It is maybe one of the most worldwide
    of mediums, in the its practice and in its range.

  • 188bet
    February 23, 2019 at 12:53 am

    In cases like this, you will have to choose a simple picture frames.
    in April 22, 1560, he was quoted saying:” Your Majesty, you’re invincible and contain the world in awe. Then it matters not if it’s heads or tail, one can predict the last results.

Post a Comment